نئی دہلی،29؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ہم جنس پرستوں کے تعلقات پر آئی پی سی کی دفعہ 377کو چیلنج دینے والی درخواست کو سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کو بھیج دیا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ کیوریٹو درخواست پر سماعت کر رہی ہے۔چیف جسٹس طے کریں گے کہ اس معاملہ کی سماعت کیوریٹو کے ساتھ ہو یا اس کی الگ سے سماعت ہو۔اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اسے منسوخ کیا جانا چاہیے ۔سپریم کورٹ بدھ کو اس پر سماعت کرے گا۔تاہم اس معاملے میں کیوریٹو درخواست پر پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی ہے اور چیف جسٹس کی بنچ نے اسے پانچ ججوں کی بنچ کو بھیج دیا تھا۔ڈانسر این ایس جوہر، شیف ریتو ڈالمیا، ہوٹل مالک امن ناتھ سمیت کئی لوگوں نے یہ عرضی دائر کی ہے۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ وہ گے، ہم جنس پرست ہیں۔یہ قانون آئین کی طرف سے فراہم کردہ زندگی گزارنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتا ہے جس کے تحت سبھی کو اپنا پارٹنر منتخب کرنے اور اپنے طریقے سے زندگی گزارنے کا حق دیا گیا ہے۔دراصل 2013میں سپریم کورٹ نے آئی پی سی کی دفعہ 377میں ترمیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ قانون میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔اس کے خلاف دائر ترمیم کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے این جی او ’ناز فاؤنڈیشن‘ نے کیوریٹو عرضی داخل کی تھی۔سپریم کورٹ میں کپل سبل نے بالغوں کے درمیان بند کمرے میں رضامندی سے بنے تعلقات کو آئینی حق بتایا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔حالانکہ عدالت میں موجود چرچ کے وکیل اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کی۔2؍فروری کو چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی تین ججوں کی بنچ نے معاملہ 5 ججوں کی بنچ کے پاس بھیج دیا۔سماعت کی تاریخ ابھی طے نہیں ہے۔اس لیے اب یہ نہیں کہاجا سکتا کہ سپریم کورٹ نے عرضی منظور کر لی ہے۔یہ بنچ سب سے پہلے یہ طے کرے گی کہ درخواست پر آگے سماعت ہو یا نہیں۔